کافی عرصے بعد چند روز قبل ایک رشتے دار کی طرف جانا ہواگھر میں داخل ہوا تو بڑھاپے کی لکیر پار کرتے دونوں میاں بیوی صحن میں بچھی دو چار پائیوں پر اکیلے بیٹھے دھیمے لہجے میں گفت وشنید کررہے تھے
پانچ کمروں کےگھر میں انہیں تنہا پاکر ذرا تعجب سے استفسار کیا کہ چاچا اکیلے بیٹھے ہیں بچے وغیرہ کہاں گئے آج؟
آسمان کی طرف دیکھ کر ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے بھیگے لہجے میں کہنے لگے کہ تینوں بیٹیاں بیاہ کےبعد اپنے گھر سدھار گئیں
دونوں بیٹوں کی شادی ہوئی تو اپنی اپنی بیگمات کےساتھ الگ گھروں میں آباد ہوگئے
رہ گئے ہم دونوں تو لوڈ شیڈنگ کےہاتھوں ستائے ،اندھیرے میں بیٹھے،پنکھا جھلتے ہوئے گزرے وقتوں کی خوشنما یادیں تازہ کررہےہیں
یہ سن کر میں سوچنےلگا کہ ماں کی پیار بھری ممتا اور باپ کی بےریا شفقت کااس سے زیادہ کرب ناک شکوہ اور کیا ہو سکتا ہے۔۔۔!!
0 comments: