latest articles
اللہ کی سزائیں
*کیا ہمیں نافرمانی کی سزا نہیں ملتی؟*
کسی شاگرد نے اپنے استاذ سے کہا : ہم رات دن اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں مگر Click Here For View
کافی عرصے بعد چند روز قبل ایک رشتے دار کی طرف جانا ہواگھر میں داخل ہوا تو بڑھاپے کی لکیر پار کرتے دونوں میاں بیوی صحن میں بچھی دو چار پائیوں پر اکیلے بیٹھے دھیمے لہجے میں گفت وشنید کررہے تھے
پانچ کمروں کےگھر میں انہیں تنہا پاکر ذرا تعجب سے استفسار کیا کہ چاچا اکیلے بیٹھے ہیں بچے وغیرہ کہاں گئے آج؟
آسمان کی طرف دیکھ کر ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے بھیگے لہجے میں کہنے لگے کہ تینوں بیٹیاں بیاہ کےبعد اپنے گھر سدھار گئیں
دونوں بیٹوں کی شادی ہوئی تو اپنی اپنی بیگمات کےساتھ الگ گھروں میں آباد ہوگئے
رہ گئے ہم دونوں تو لوڈ شیڈنگ کےہاتھوں ستائے ،اندھیرے میں بیٹھے،پنکھا جھلتے ہوئے گزرے وقتوں کی خوشنما یادیں تازہ کررہےہیں
یہ سن کر میں سوچنےلگا کہ ماں کی پیار بھری ممتا اور باپ کی بےریا شفقت کااس سے زیادہ کرب ناک شکوہ اور کیا ہو سکتا ہے۔۔۔!! Click Here For View
کیا آپ کے بچوں کیساتھ بھی ایسا ہوتا ہے
پاپا مجھے بلیو شرٹ چاہیئے اج اسکول میں بلیو کلر ڈے ہے۔
پاپا مجھے آرمی یونیفارم چاہیئے اج اسکول میں آرمی ڈے ہے۔
پاپا مجھے ٹیچر مارتی ہے۔
پاپا اسٹنشری اسکول کے بک شاپ پر نہیں ہوتی ٹیچر مجھے مارتی ہے۔ حالانکہ سٹی اسکول کی اسٹیشنری باہر دستیاب ہی نہیں ہوتی۔
پاپا مجھے اسکول نہیں جانا ہماری ٹیچر مذاق اڑاتی ہے کہ آپ گینڈے جیسے موٹے ہو۔
پاپا ٹیچر میرا لنچ کھا جاتی ہے۔
پاپا ٹیچر نے اج مجھے بازو میں پینسل کا نوک گھسا دیا۔
۔
جب اسکول انتظامیہ سے بات کرنے جاؤ تو آگے سے بیس سالہ میٹرکولیٹ ٹیچر آپ کو یہ سکھانے بیٹھ جاتی ہے کہ بچے کی کیا نفسیات ہیں۔ ان کی تربیت کیسی کی جاسکتی ہے۔ بچوں کے نفسیات کے حوالے سے ہم والدین کو کسی سیشن میں داخلہ لینا چاہیئے۔
اب بندہ اسے کیا بتائے کہ میڈم جس باپ کو آپ یہ سب سکھا رہی ہو اس نے ڈاکٹریٹ بھی اسی مضمون میں کیا ہے۔ دوسروں کے بچے بڑھانے میں مددگار اس باپ نے بقلم خود یہ بچے پیدا کئے ہیں۔ پوری رات رت جگا کرنے والی ماں کو اب میں نفسیات سکھانے میں مدد کروں؟ حد ہے اور بے حد ہے۔
جب میری فرسٹریشن بڑھ جاتی ہے تو باہر جاکر بیچ سڑک کسی مزدا ڈرائیور یا موٹر سائیکل والے کے ساتھ ہاتھا پائی کرکے خود کو ہلکا کرلیتا ہوں، مگر درج بالا حوالوں سے بالکل خود کو بے بس پاتا ہوں۔ میرا دل کرتا ہے ان مافیاز کیساتھ دو دو ہاتھ کرلوں۔ مگر کوئی ٹی وی چینل اس بات پر تیار نہیں کہ ان پر ڈاکیومینٹری چلائیں۔ کوئی اخبار تیار نہیں کہ ان کے خلاف کوئی رپورٹ چھاپیں۔ کیونکہ یہ تعلیمی مافیاز جن کی ہیں وہ حکومتی حصہ ہیں۔
آپ لوگ بھی میری طرح پاگل ہورہے ہیں؟
کیا آپ کے بچوں کیساتھ بھی ایسا ہوتا ہے؟؟
تو آئیے ان پرائیویٹ اسکول کو ڈسکس کرتے ہیں۔ اس مافیا پر بات کرتے ہیں۔ جنہوں نے اپنی جڑیں اتنی مضبوط کرلیں ہیں کہ اب شاید ہی اکھڑ سکیں۔
۔۔۔۔۔(نقل شدہ ) Click Here For View
اطمینان اگر دولت میں ہوتا تو
اطمینان اگر دولت میں ہوتا تو۔۔۔۔
________
مولوی صاحب ! دل کی بات پوچھیں تو آپ سے شادی کے بعد میں نے خواہشوں کا گلا ہی گھونٹا ہے، شادی کرکے آئی تھی
Click Here For View
________
مولوی صاحب ! دل کی بات پوچھیں تو آپ سے شادی کے بعد میں نے خواہشوں کا گلا ہی گھونٹا ہے، شادی کرکے آئی تھی
Click Here For View
Artical
ہم سب کے لیے ایک غور و فکر کی بات
جو لوگ دیہاتوں کے رہنے والے ہیں وہ جانتے ہوں گے دیہاتوں میں ایک کیڑا پایا جاتا ہے جسے گوبر کا کیڑا کہا جاتا ہے. اسے گائے , بھینس کے گوبر کی بو بہت پسند ہوتی ہے. وہ صبح اٹھ کر گوبر کی تلاش میں نکل پڑتا ہے اور سارا دن جہاں سے گوبر ملے اسکا گولا بناتا رہتا ہے۔ شام تک اچھا خاصا بڑا گولا بنا لیتا ہے۔ پھر اس گولے کو دھکا دیتے ہوئے اپنی بل تک لے جاتا ہے۔ لیکن بل پر پہنچ کر اسے احساس ہوتا ہے کہ گولا تو بہت بڑا بنا لیا اور بل کا سوراخ چھوٹا ہے۔ بہت کوشش کے باوجود وہ گولا بل میں نہیں جا سکتا۔
یہی حال ہم سب کا ہے۔ ساری زندگی حلال حرام طریقے سے دنیا کا مال و متاع جمع کرنے میں لگے رہتے ہیں اور جب آخری وقت قریب آتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ سب تو قبر میں میرے ساتھ نہیں جا سکتا اور ہم اس زندگی بھر کی کمائی کو حسرت سے دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں۔
میں چاہے کوئی کامیاب بزنس مین بن جاؤں،اربوں روپے کے بنک بیلنس بنا لوں، اپنے لئے ہر آسائش کا انتظام کر لوں، لیکن جب میری سانس نکل جائے گی تو میرا قیمتی لباس اتار کر لٹھے کا کفن پہنا دیا جائے گا۔ میرے محل نما گھر میں میرا وجود برداشت نہیں کیا جائے گا۔ میرے نام کے بجائے مجھے میت کہا جائے گا۔ کل تک جو لوگ میرے بغیر رہ نہیں سکتے تھے، آج وہ خود مجھے اپنے کندھوں پر اٹھا کر قبر کے گڑھے میں چھوڑ آئیں گے۔
ہمیں اس عارضی دنیا کو چھوڑ کر جانا ہے، اس لئے ہمیں جہاں جانا اور مستقل رہنا ہے، وہاں کے لئے تیاری کرنا بہت ضروری ہے۔ ہر نیکی ہمیں وہاں ایک رفیق دوست کے روپ میں ملے گی اور ہر برائی عذاب کی صورت میں! اب یہ ہمارے اپنے اختیار میں ہے کہ ہم اپنی آخرت کے لئے اچھا ٹھکانہ بناتے ہیں یا برا۔ اپنے لئے وہ چیزیں جمع کرتے ہیں جو آخرت میں کام آئیں گی، یا گوبر کے کیڑے کی طرح حرص و لالچ میں پڑ کر صرف اپنا وقت برباد کرتے ہیں ! Click Here For View
جو لوگ دیہاتوں کے رہنے والے ہیں وہ جانتے ہوں گے دیہاتوں میں ایک کیڑا پایا جاتا ہے جسے گوبر کا کیڑا کہا جاتا ہے. اسے گائے , بھینس کے گوبر کی بو بہت پسند ہوتی ہے. وہ صبح اٹھ کر گوبر کی تلاش میں نکل پڑتا ہے اور سارا دن جہاں سے گوبر ملے اسکا گولا بناتا رہتا ہے۔ شام تک اچھا خاصا بڑا گولا بنا لیتا ہے۔ پھر اس گولے کو دھکا دیتے ہوئے اپنی بل تک لے جاتا ہے۔ لیکن بل پر پہنچ کر اسے احساس ہوتا ہے کہ گولا تو بہت بڑا بنا لیا اور بل کا سوراخ چھوٹا ہے۔ بہت کوشش کے باوجود وہ گولا بل میں نہیں جا سکتا۔
یہی حال ہم سب کا ہے۔ ساری زندگی حلال حرام طریقے سے دنیا کا مال و متاع جمع کرنے میں لگے رہتے ہیں اور جب آخری وقت قریب آتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ سب تو قبر میں میرے ساتھ نہیں جا سکتا اور ہم اس زندگی بھر کی کمائی کو حسرت سے دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں۔
میں چاہے کوئی کامیاب بزنس مین بن جاؤں،اربوں روپے کے بنک بیلنس بنا لوں، اپنے لئے ہر آسائش کا انتظام کر لوں، لیکن جب میری سانس نکل جائے گی تو میرا قیمتی لباس اتار کر لٹھے کا کفن پہنا دیا جائے گا۔ میرے محل نما گھر میں میرا وجود برداشت نہیں کیا جائے گا۔ میرے نام کے بجائے مجھے میت کہا جائے گا۔ کل تک جو لوگ میرے بغیر رہ نہیں سکتے تھے، آج وہ خود مجھے اپنے کندھوں پر اٹھا کر قبر کے گڑھے میں چھوڑ آئیں گے۔
ہمیں اس عارضی دنیا کو چھوڑ کر جانا ہے، اس لئے ہمیں جہاں جانا اور مستقل رہنا ہے، وہاں کے لئے تیاری کرنا بہت ضروری ہے۔ ہر نیکی ہمیں وہاں ایک رفیق دوست کے روپ میں ملے گی اور ہر برائی عذاب کی صورت میں! اب یہ ہمارے اپنے اختیار میں ہے کہ ہم اپنی آخرت کے لئے اچھا ٹھکانہ بناتے ہیں یا برا۔ اپنے لئے وہ چیزیں جمع کرتے ہیں جو آخرت میں کام آئیں گی، یا گوبر کے کیڑے کی طرح حرص و لالچ میں پڑ کر صرف اپنا وقت برباد کرتے ہیں ! Click Here For View
Subscribe to:
Comments (Atom)







